4 / 2 / 202
آج میں صبح ۵:۳۰ پہ اٹھی اور پھر آٹا گوندھا اور نماز پڑھنے کے بعد میں نے روٹیاں بنائی اور پھراپنا ٹفن اور خاوند کی شاپ کے ملازم کا ٹفن بنایا اور ساتھ چائے بنائی وہ بوتل میں ڈالی اور تیاری شروع کر دی کیونکہ آج سے وین مجھے ۷:۰۵ پہ لیا کرے گی ۔کیونکہ ایک ٹیچر لیٹ ہو جاتی ہے سکول سے میں بھی ایک ٹیچر ہوں اور میں آٹھویں کلاس کی انچارج ہوں بہت مشکل زندگی ہے میری اور بہت ہی مشکل روٹین بھی۔
خیر پوائنٹ پر آتے ہیں وین آگئ اور میں نے بیگ اٹھایا اور بیٹھ گئ پھرمیرا کام ہے کہ سب ٹیچرز کو فون کال سے آگاہ کرنا کہ اب اس ٹیچر کو لے لیا اور اگلی تیار رہے۔سبکو لینے کے بعد ہم اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔راستہ میں ، میں نے سرفراز شاہ جو کہ بہت ہی اچھے زندگی کے بارے میں سمجھاتے ہیں انکا پوائنٹ " توکل" کو سننا شروع کیا بہت ہی اعلی طریقے سے سمجھایا انہوں نے۔ پھر سکول پہنچ گئے حاضری لگانے کے بعد کلاس میں جا کر کلاس کی حاضری لگائی اور بچوں کا سبق سنا اور پھرا سارا دن یہ ہی کام رہا اور 1:30 پر ہماری واپسی ہوئی اور گھر آتے ہوئے مجھے 3:00 بج جاتے ہیں۔ گھر آ کر سالن بنایااوراور پھر اسکے بعد صفائیاں کی گھر کی اور آٹا گوند کر روٹیاں بنائی آج جمعرات تھی تو ساس امی ہمیشہ ابو کا ختم دلاتی ہیں کیونکہ وہ شہید ہو چکے ہیں۔
پھر کھانا بنایا اور سبکو دیا اپنے خاوند کے ساتھ خود کھایا اور برتن دھوئے سارے کچن صاف کیا اور 8:30 پر جا کر فارغ اب فری ہوئی ہوں اور سوچا کہ اپنی آج کی آپ بیتی لکھ لوں اور آپ سب سے شئیر کر لوں کل میرا خاوند بھی ڈیوٹی پر چلے جائیں گے میرے لیے یہ بہت ہی مشکل لمحات ہیں بلکل بھی دل نہیں کرتا کہ وہ جائیں کیونکہ سسرال میں ایک وہ ہی تو ہیں جن سے دل کی ہر بات کر سکتی ہوں دل کو سکون رہتا ہے وہ میرا بہت خیال کرتے ہیں اللہ انکو میرے لیے سلامت رکھیں۔
0 Comments